بنگلورو،28؍اگست(ایس او نیوز) شہر بنگلور و کے کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی علاقے میں چند روز پہلے پیش آنے والے پرتشدد واقعات کو جمعرات کے روز اس وقت ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ مل گیا جب شہر کی پولیس اور سنٹرل کرائم برانچ نے شہر کے بانسواڑی اور آس پاس کے علاقوں سے بھاری مقدار میں گانجہ ضبط کر کے اس سلسلہ میں گرفتار ملزموں سے پوچھ تاچھ کے دوران یہ پایا کہ شہر کے ان دونوں گنجان اقلیتی آبادی والے علاقوں میں جو پرتشدد واقعات پیش آئے اس کے پیچھے ان علاقوں میں سرگرم گانجہ اور ڈرگس فروخت کرنے والی گینگ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
بنگلورو شہر کے پولیس کمشنر کمل پنت نے جمعرات کے روز اس گینگ کو بے نقاب کر کے ان کے پاس سے 200کلو سے زیادہ گانجہ کی ضبطی کا انکشاف کرتے ہوئے یہ بتایا کہ اس سلسلہ میں گرفتار ملزموں سے کی گئی پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی علاقوں میں جو پرتشدد واقعات پیش آئے ان سے بھی اس گینگ کا بہت گہرا تعلق ہے۔
اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ سی سی بی اور دیگر پولیس شعبوں سے کہا گیا ہے کہ معاملہ کی جانچ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر کی جائے۔پولیس کی اس کارروائی سے پہلے ہی کئی حلقوں میں یہ شبہات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ اس تشدد کے پیچھے علاقے میں سرگرم گانجہ گینگوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ یہ شبہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ علاقہ میں نشہ کے عادی نوجوانوں کو گانجہ یا دیگر منشیات دے کر یا ان کا لالچ دے کر ان سے یہ ہنگامہ کروایا گیا ہو گا۔
بنگلوروشہر کے پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس زاویے سے پولیس کی تحقیق شروع ہو چکی ہے۔ تحقیقات کے دوران اگرتشدد میں اس گینگ کے شامل ہونے کے بارے میں اور بھی شواہد یکجا ہو تے ہیں تو ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ یاد ہو گا کہ فیس بک پر نوین نامی ایک شرپسند کی طرف سے توہین رسالت ؐ کئے جانے کے خلاف احتجاج اور جذباتی ماحول کا استحصال کرتے ہوئے علاقے میں ہنگامہ مچایا گیا اور بے شمار گاڑیوں کو نذر آتش کردینے کے ساتھ ہی کئی گھر جلا دئیے گئے اور ڈی جے ہلی و کے جی ہلی پولیس تھانوں پر حملہ کردیا گیا۔
اس تشدد میں ایک طرف 60سے زائد پولیس والے زخمی ہوئے تو پولیس فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں چار لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ تشدد کے بعد پولیس کی طرف سے ایک خاص فرقہ سے وابستہ سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور گرفتاریوں کا یہ سلسلہ اب بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں اس تشد د کے متعلق پولیس کمشنر کمل پنت کا تازہ انکشاف کہ اس کے پیچھے علاقے میں سرگرم گانجہ اور منشیات گینگوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کے مشتعل جذبات کا منظم طریقے سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔
ایک طرف سیاستدانوں کی آپسی لڑائی اور دوسری طرف گانجہ اور منشات گینگوں کی رسہ کشی اور موقع پرستی کے درمیان مقامی مسلمان پس گئے ہیں۔ پولیس کی طرف سے اس تشدد کے متعلق جو تازہ تحقیق سامنے آئی ہے اس کے بعد کئی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اگر واقعی کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے پیچھے گانجہ اور منشات گینگوں کا ہاتھ ہے جس کا انکشاف خود پولیس کمشنر نے کیا ہے تو اس تشدد کے سلسلے میں جن سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے بارے میں پولیس کا کیا موقف ہے؟